انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ صرف ایران کی کمپنیوں پر ریڈیو دوائیں تیار کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے، کہا کہ اس پابندی سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پابندیاں لگانے والوں کی نظر میں انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران میں اگر جوہری ایندھن کی سائیکلنگ کا سسٹم نہ ہوتا تو ریڈیو دوائیں تیار کرنا ممکن نہ ہوتا ۔ ایران کے ادارہ ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے اسی طرح ایران کے خلاف ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں فریقین کی دلچسپی کا ذکر کیا۔
واضح رہے کہ ویانا مذاکرات حتمی نتیجے پر پہنچ رہے تھے مگر امریکہ میں سیاسی فیصلے کے عزم کے فقدان کی بنا پر بعض نکات پر اختلافات ہیں جبکہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ امریکہ اگر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے تو سمجھوتے کا حصول ممکن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242